کبھی خدا کی آواز سننے کے لیے،
کانوں کو آواز سننے کی ضرورت نہیں ہوتی…
دل کو بیدار ہونا پڑتا ہے۔

آج رات حرم میں،
شب قدر کی دعاؤں اور آنسوؤں کے درمیان،
وہ لوگ آئے ہیں جو ہر آواز سے بہتر خاموشی کو سمجھتے ہیں۔

وہ شاید ہجوم کی مناجات کی آواز نہ سن سکیں،
لیکن ان کا دل ہر «یا اللہ» کے ساتھ دھڑکتا ہے…
ہر آنسو کے ساتھ، آسمان کی طرف اٹھتی ہر نگاہ کے ساتھ۔

ان کے ہاتھ گویا ہو گئے ہیں؛
اشاروں کی زبان جو دل سے نکلتی ہے
اور سیدھی آسمان تک پہنچتی ہے۔

آج رات،
اس نورانی صحن میں،
دعا صرف سنی نہیں جاتی…
دعا دیکھی جاتی ہے۔

اور خدا…
خدا دلوں کی آواز سب سے بہتر سنتا ہے؛
چاہے آواز کے ساتھ ہو،
چاہے خاموشی میں۔

امام رضا علیہ السلام کے مقدس حرم میں سننے سے قاصر (بہرے ) افراد کے لیے شبِ قدر کی احیاء کی خصوصی محفل۔

امام رضا علیہ السلام کے مقدس حرم میں سننے سے قاصر (بہرے ) افراد کے لیے شبِ قدر کی احیاء کی خصوصی محفل۔

متعلقہ